![]() |
| اہانت رسول کے مجرمین کو ہرگز کسی بھی قیمت پر بخشا نہ جائے |
مولانا منور حسین صدیقی چترویدی۔
گزشتہ چند دنوں سے ملک میں بد امنی کی فضا قائم ہے ملک دشمن اور گنگا جمنی تہذیب کی دشمن طاقتیں یہاں کی بھائے چارے کو ختم کرنے مصر ہیں اس لئے ہر نئے وقت نیافتین اور نیافتنہ جنم لے رہاہے اور اپنی پروں کو دراز کررہاہے آزادی کے بعد ہی سے یہاں کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو دبانے اور انکی عبادت گاہوں پر قبضے اور حملے کادور جاری ہے قدیم مساجد ومدارس پر ان شرپسند عناصر کی غلط نگاہیں ہیں اور وہ اس کے حصول کے لئے نئی نئی سازشیں رچتے رہتے ہیں اور پلاننگ کرتے رہتے ہیں اس میں انکو ملک کے امن وامان اورباہمی اخوت کے ختم ہونے کی کوئی پرواہ نہیں۔
تاہم جب سے بھارتی جنتا پارٹی کی سرکار آئی ہے یہ شرپسند فتنہ پرور مزید بے لگام ہوگئے ہیں انہیں موجودہ سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے خواہ وہ یتی نرسنگھانند ہو یا کنگنا راناوت یا پھر نوپور شرما یا نوین جندال اور ان جیسی ذہنیت والے افراد انہوں نے نفرت پھیلانے والی ہرممکنہ صورت کا بیڑا اٹھایاہے اور وہ اس سے سستی شہرت اور سیاسی مقام ومرتبہ چاہتے ہیں ان جیسے افراد سماج اور ملک کے لئے زہر قاتل ہیں اس سے ملک وقوم کاکافی نقصان ہے اور بیرون ممالک میں ہمارا سر جھکا ہے بھارت کی توہین ہوئی۔
سرکار کو انکے خلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے اور جلد سے جلد انکو کیفر کردار تک پہنچاکر بھارت کی ساکھ کو بچانا چاہئے ورنہ مسلمان اپنے نبی کی جاہ وجلال کے لئے اپنی جان بھی دے دیگا مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن نبی اور اہل بیت کی توہین نہیں۔سرکار کو ہوش کے ناخن لے لینے چاہئے یہ باتیں مولانا منور حسین صدیقی مقیم حال بنگلور نے کہی۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں